5 جون 2013 - 19:30
ترکي ميں حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ جاري

ترکي ميں حکومت کے خلاف عوامي مظاہرے مسلسل جاري ہيں اور پوليس کي مداخلت کي وجہ سے ان مظاہروں ميں تشدد پھوٹ پڑے ہيں-

ابنا: استنبول اور انقرہ ميں وزير اعظم کے دفاتر کے سامنے مظاہرين کے اجتماع پر پوليس کے حملے ميں بہت سے لوگوں کے زخمي ہونے کي خبر ہے  -ترکي ميں حکومت کے خلاف عوامي مظاہرے مسلسل جاري ہيں اور پوليس کي مداخلت کي وجہ سے ان مظاہروں ميں تشدد پھوٹ پڑے ہيں-
حکومت مخالف مظاہرين نے بدھ کودارالحکومت انقرہ اور ترکي کے سب سے بڑے شہر استنبول ميں وزير اعظم رجب طيب اردوغان کے دفاتر کا محاصرہ کرليا اور پوليس کي طرف سے دي جانےوالي وارننگ کي انہوں نے کوئي پرواہ نہيں کي - ترکي کي  خصوصي ٹاسک فورس نے وزير اعظم اردوغان کے خلاف نعرے لگارہے مظاہرين کو منتشر کرنے کے لئے اشک آور گيس کا استعمال کيا اور پاني کي تيز دھار پھينکي -
  يہ ايسي حالت ميں ہے کہ ترکي کے نائب وزير اعظم بلنت ارينچ نے منگل کو اپنے بيان ميں مظاہرين پر پوليس کے تشدد پر عوام   سے معافي مانگي اور ان سے درخواست کي وہ اپنے مظاہرے ختم کرديں –
ليکن  مظاہرين نے  احتجاجي اجتماعات اور مظاہرے جاري رکھ کے وزير اعظم رجب طيب اردوغان کے استعفے کا مطالبہ کيا –
  ترکي کي مزدور يونينيوں کي کنفڈريشن نے جس ميں تقريبا ڈھائي لاکھ افراد شامل ہيں مظاہرين سے اظہار يکجہتي کے لئے دوروزہ عام ہڑتال کا اعلان کر رکھا ہے -

   واضح رہے کہ حکومت مخالف لاکھوں افراد انقرہ استنبول ازمير موغلہ آنتاليا سميت ترکي کے تقريبا ستر شہروں ميں گذشتہ جمعے سے شديد اور وسيع مظاہرے کررہے ہيں - ترکي کي انساني حقوق کي انجمن نے کہا کہ ان مظاہروں کے  دوران اب تک تين افراد ہلاک ہوچکے ہيں - ان مظاہروں کے دوران تين ہزار افراد زخمي ہوئے ہيں -
   يورپي  اداروں نے بھي ترکي ميں جاري   مظاہروں اور پوليس کے تشدد کے بعدحکومت سے کہا ہے کہ وہ مظاہرين سے صبر و تحمل کے ساتھ نمٹے - يورپي پارليمان کے متعدد ممبران نے مظاہرين کے خلاف ترک حکام کے رويے پر تنقيد کرتے ہوئے طاقت کے استعمال کو يورپي معياروں کے منافي قرار ديا ہے - يورپي پارليمان کے سربراہ مارٹين شولز نے بھي خبردار کيا ہے کہ مظاہرين کے خلاف رجب طيب اردوغان کا رويہ يورپي يونين ميں رکنيت کي شرائط کے منافي ہے -
     ترکي ميں حکومت مخالف مظاہرے گذشتہ جمعہ سے اس وقت شدت اختيار کرگئے جب پوليس نے ان مظاہرين پر جو استنبول ميں گزي پارک کو ختم کرنے کے حکومتي فيصلے کے خلاف دھرنے پر بيٹھے ہوئے تھے حملہ کرديا - مظاہرين کا کہنا ہے کہ گزي پارک جو جمہوريت کے حق ميں اور اپني آواز کو حکومت کے کانوں تک پہنچانے کا ايک اہم مرکز ہے اور ساتھ ہي سياحتي لحاظ سے بھي بہترين جگہ ہے استنبول شہر کا آخري پارک ہے جو اب تک بچا ہوا ہے - استنبول ميں مظاہرين پر پوليس کے تشدد کے بعد پورے ملک ميں حکومت کے خلاف مظاہرے شروع ہوگئے ہيں اور لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ اردوغان کے استعفے تک اپنے مظاہرے جاري رکھيں گے -
ترکي کي کے مظاہرين اردوغان حکومت پر آمرانہ طرز عمل اپنانے کا الزام لگاتے ہيں -

.......

/169